الفتح الربانی
مسائل البر وصلة الرحم— نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرُ الْوَالِدَيْنِ وَحُقُوقِهَا وَالتَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ باب: والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 8990
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ اس اعتبار سے غلام بھی میت کی طرح ہوتا ہے کہ اس کو تصرف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، اس لیے اس کی آزادی اس کی زندگی کی طرح ہے، پس جس آدمی نے اپنے باپ کو آزاد کیا، تو گویا اس نے اپنے باپ کو زندہ کر دیا، جیسے اس کا باپ اس کی زندگی کا سبب بنا تھا، گویا اس نے باپ کے احسان کا جواب دے دیا۔