حدیث نمبر: 8987
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِمَا يَحِلُّ لِي وَيُحَرَّمُ عَلَيَّ قَالَ فَصَعَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَوَّبَ فِي النَّظَرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبِرُّ مَا سَكَنَتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْإِثْمُ مَا لَمْ تَسْكُنْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَلَمْ يَطْمَئِنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ وَقَالَ لَا تَقْرَبْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَلَا ذَا نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ان چیزوں کے بارے میں بتلائیں جو میرے لیے حلال اور مجھ پر حرام ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف نگاہ بلند کی اور پھر پست کی اور فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر نفس کو تسکین ملے اور دل کو اطمینان ہو اور برائی وہ ہے کہ جس پر نہ نفس کو سکون ملے اور نہ دل مطمئن ہو، اگرچہ فتوی دینے والے فتوی دیتے رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: گھریلوں گدھے کے گوشت اور کچلی والے درندے کے قریب نہ جا۔

وضاحت:
فوائد: … مطلع ہونے والے لوگوں سے مراد معاشرے کے وہ باوقار اور فاضل لوگ ہیں، جن سے شرم محسوس کی جاتی ہے۔
بلا شک و شبہ شریعت ِ اسلامیہ میں نیکی اور گناہ والے امور کا وضاحت کے ساتھ تعین کر دیا گیا ہے۔ ان احادیث ِ مبارکہ میں جو قانون پیش کیا گیا ہے، یہ انتہائی سلیم الفطرت اور خدا شناس لوگوں سے متعلقہ ہے، نہ کہ عوام الناس سے، کیونکہ عام لوگوں کے پاس اتنی معرفت ِ الٰہییا اتنا شعور یا اتنا ذوق ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے نفس کی روشنی میں نیکییا برائی کا تعین کر سکیں۔ جیسا کہ علامہ عبیداللہ مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث کا تعلق ان لوگوں سے ہے، جن کے باطن آلائشوں سے صاف اور دل گناہوں سے پاک ہوتے ہیں،یہ حدیث عوام الناس سے متعلقہ نہیں ہے، بالخصوص گنہگار لوگ، کیونکہ وہ بیچارے تو بسا اوقات گناہ کو نیکی اور نیکی کو گناہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ (مرعاۃ المفاتیح: ۱/ ۱۱۷) عصر حاضر میں لوگوں کی کیفیت نے مبارکپوری صاحب کے مفہوم کی بہت حد تک تائید کی ہے۔ ہر ایک نے اپنی زندگی کے لیے نیکی و بدی کے خود ساختہ معیار بنا رکھے ہیں، جو عالم ان کی کسوٹی کی مخالفت میں فتوییا دلائل پیش کرے گا، اسے یا تو اتنی اہمیت ہی نہیں دی جائے گی کہ اس کی بات پر توجہ کی جائے یا پھر اسے کہا جائے گا کہ اسلام میں اتنی سختی نہیں ہے۔
ایک مثال یہ ہے کہ ایک آدمی بہت کم بولتا تھا، دوسروں کے بارے میںتبصرہ نہیں کرتا ہے اور بے ضرر سا انسان تھا، لیکن بے نماز تھا، تلاوتِ کلام پاک سے بعید تھا، عورتوں کے پردے والے معاملات کی پابندی نہیں کرتا تھا، ہلکا ہلکا نشہ بھی کرتا تھا اور داڑھی مونڈتا تھا۔ صرف اس کی خاموشی کو دیکھ کر دنیوی سطح کے مطابق پڑھے لکھے لوگوں نے کہا کہ وہ تو کوئی فرشتہ ہے، کیونکہ وہ خاموش رہتا ہے اور کسی دوسرے آدمی کے معاملے میں کوئی دخل نہیں دیتا۔ یہ کسی کو نیکیا بد کہنے کا عوام الناس کا معیار ہے کہ بے نماز کو فرشتہ کہا جا رہا ہے، جائز حد تک خاموشی اچھا وصف ہے، لیکن سارے کا سارا اسلام اسی خصلت میں پنہاں نہیں ہے۔
عوام الناس کے لیے معیار قرآن اور حدیث ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں نیکیوں اور گناہوں کو سمجھیں اور پھر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تقاضے پورے کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 8987
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 585 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17894»