حدیث نمبر: 8986
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ غَيْرِهِ فَقَالَ الْبِرُّ مَا انْشَرَحَ لَهُ صَدْرُكَ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ وَإِنْ أَفْتَاكَ عَنْهُ النَّاسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس کے علاوہ کوئی سوال کرنے کے لیے نہیں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر تجھے انشراح صدر ہو جائے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکنے لگ جائے، اگرچہ لوگ تجھے فتوی دیتے رہیں۔

وضاحت:
فوائد: … جب کسی کام کے بارے میں انشراح صدر نہ ہو، بلکہ شک وشبہ سا پیدا ہو رہا ہو اور اس کے گناہ ہونے کا وہم پڑ رہا ہو تو اس کو ترک کر دینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل البر وصلة الرحم / حدیث: 8986
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18162»