حدیث نمبر: 8982
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ أَوْصِنِي فَقَالَ سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَبْلِكَ أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ شَيْءٍ وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللَّهِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ رُوحُكَ فِي السَّمَاءِ وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے کوئی وصیت کریں۔ میں نے کہا: تو نے جو سوال مجھ سے کیا ہے، میں نے تجھ سے پہلے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تھا (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا): میں تجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوںکیونکہ یہ ہر چیز کی بنیا دہے، جہاد کو لازم پکڑ کہ وہ اسلام کی رہبانیت ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کیا کر، کیونکہ وہ آسمان میں تیرے لیے باعثِ رحمت اور زمین میں تیرے لیے باعث تذکرہ ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق کی بنیاد تقوی اور اللہ کے خوف پر ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ مأمورات پر عمل کیا جائے اور منہیات سے اجتناب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8982
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابويعلي: 1000، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1774 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11796»