الفتح الربانی
مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة— اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل
بَابُ فِي التَّرْغِيْبِ فِي خِصَالٍ مُجْتَمَعَةٍ مِنْ أَفْضَل أَعْمَالِ الْبِرِّ وَالنَّهْي عَنْ ضِدُّها باب: نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8975
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ قَالَ احْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس نے کہا: اگر مجھ میں اتنا کچھ کرنے کی طاقت نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے نفس کو شرّ سے روکے رکھنا، کیونکہ یہ بھی صدقہ ہو گا جو تو اپنے نفس پر کرے گا۔