حدیث نمبر: 8974
وَعَنْ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَامَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ النَّاسِ أَقْرَؤُهُمْ وَأَتْقَاهُمْ وَآمَرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَوْصَلُهُمْ لِلرَّحِمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ درہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تھے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بہترین وہ ہے جو سب سے زیادہ تلاوت کرنے والا ہو، سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے والا ہو، سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والا ہو اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8974
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 539، والطبراني في الكبير : 24/ 657 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27980»