حدیث نمبر: 8971
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ (وَفِي رِوَايَةٍ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ) وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ عَلَيْكَ أَوْ لَكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا أَوْ مُعْتِقُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدناابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضو نصف ایمان ہے، الحمد للہ سے ترازو بھر جاتا ہے، اور سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ سے آسمانوں اور زمین کا درمیانی خلا بھر جاتا ہے، نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن تیری مخالفت میں یا تیرے حق میں دلیل ہو گا، اور ہر آدمی صبح کو اپنا نفس بیچ رہا ہوتا ہے تو کوئی اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور کوئی اس کو آزاد کرتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … صدقہ، صدقہ کرنے والے کے ایمان کی دلیل ہے، کیونکہ منافق عدمِ ایمان کی وجہ سے صدقہ و خیرات سے اجتناب کرتا ہے۔
جو صبر شریعت میں محبوب ہے، وہ مراد ہے، یعنی نیکیوں کی ادائیگی اور برائیوں سے اجتناب پر صبر کرنا اور اسی طرح جسمانی اور روحانی پریشانیوں پر صبر کرنا۔
ہر صبح کو ہر انسان اپنے جسم کا سودا کر رہا ہوتا ہے، کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے اس کو بیچتا ہے اور جہنم سے آزاد ہو جاتا ہے اور کوئی غفلت میں پڑھ کر اور شیطان کے پیچھے چل کر اس کو ہلاک کر دیتا ہے، اس معاملے میں انسانوں کییہ دو ہی قسمیں ہیں، ہر انسان آسانی سے اپنی ذات کا فیصلہ کر سکتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8971
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 223، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22908 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23296»