الفتح الربانی
مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة— اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل
بَابُ فِي التَّرْغِيْبِ فِي خِصَالٍ مُجْتَمَعَةٍ مِنْ أَفْضَل أَعْمَالِ الْبِرِّ وَالنَّهْي عَنْ ضِدُّها باب: نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ تَعَالَى وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَغْلَاهَا ثَمَنًا قَالَ فَإِنْ لَمْ أَجِدْ قَالَ تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ وَقَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ قَالَ كُفَّ أَذَاكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ میں نے کہا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مالکوں کے ہاں سب سے عمدہ اور سب سے زیادہ قیمت والی ہو۔ میں نے کہا: اگر مجھ میں یہ عمل کرنے کی طاقت نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: تو کسی ہنر مند کی معاونت کر دیا کرو یا کسی بے ہنر انسان کا کوئی کام کر دیا کرو۔ میں نے کہا: اگر میں یہ کارِ خیر کرنے سے بھی عاجز رہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’تو تم لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھو‘ یہ بھی تمہارا اپنے آپ پر صدقہ ہو گا۔