حدیث نمبر: 8961
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ وَأُرِيقَ دَمُهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ هَجَرَ مَا كَرِهَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْمُوجِبَتَانِ قَالَ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لمبے قیام والی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور جس کا خون بہا دیا جائے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے نا پسندیدہ امور کو ترک کر دیا۔ اس نے کہا: کون سا مسلمان افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! واجب کرنے والی دو چیزیں کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … حقیقی مجاہد اور مہاجر وہی ہے جو اپنے نفس کی مخالفت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کو ترک کر دے‘ اگر ایک انسان ہجرت (یعنی ترک وطن) اور جہاد کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیتوں سے پرہیز نہیں کرتا تو ایسی ہجرت اور جہاد کا کیا فائدہ جو اس کے نفس میں ہی نیکی کا رجحان پیدا نہ کر سکے؟ ہجرت اور جہاد تو اس چیز کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر اس کے اوامر و نواہی کی پابندی کی جائے‘ وہ پابندی اپنا وطن چھوڑنے کی صورت میں ہو یا اسلام کی سربلندی کے لئے اللہ کے دشمنوں سے پنجہ آزمائی کرنے کی صورت میںیا شریعت کی منع کردہ چیزوں سے باز رہنے کی صورت میں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8961
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه القطعة الأولي والرابعة مسلم: 756، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15280»