الفتح الربانی
مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة— اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل
بَابُ فِي التَّرْغِيْبِ فِي خِصَالٍ مُجْتَمَعَةٍ مِنْ أَفْضَل أَعْمَالِ الْبِرِّ وَالنَّهْي عَنْ ضِدُّها باب: نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ قِيلَ فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قِيلَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ جَهْدُ الْمُقِلِّ قِيلَ فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ قِيلَ فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ قِيلَ فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ قَالَ مَنْ أُهْرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ۔ سیدنا عبد اللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو، ایسا جہاد کہ جس میں کوئی خیانت نہ ہو اور حج مبرور۔ کسی نے کہا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لمبا قیام کرنا۔ کسی نے کہا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کم مایہ آدمی کی طاقت کے بقدر۔ کسی نے کہا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اللہ کے حرام کردہ امور کو ترک کر دیا‘ اس کی یہ ہجرت (یعنی حرام کاموں کو چھوڑ دینا) افضل ہے۔ کسی نے کہا: کون سا جہاد افضل ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مال وجان سمیت مشرکین سے جہاد کرنا۔ پھر یہ سوال کیا گیا کہ کون سا قتل (یعنی شہادت) بلند مرتبہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے اور اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں۔