الفتح الربانی
مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة— اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل
بَابُ فِي التَّرْغِيْبِ فِي خِصَالٍ مُجْتَمَعَةٍ مِنْ أَفْضَل أَعْمَالِ الْبِرِّ وَالنَّهْي عَنْ ضِدُّها باب: نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَقَالَ لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفُكَّ رَقَبَةً فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَتَا بِوَاحِدَةٍ قَالَ لَا إِنَّ عِتْقَ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا وَفَكَّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي عِتْقِهَا وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنَ الْخَيْرِ۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کی تعلیم دیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ تو نے بات تو مختصر کی ہے، لیکن مسئلہ بڑا پیش کر دیا ہے، جواب یہ ہے کہ تو مکمل غلام آزاد کر یا کسی غلام کی آزادی میں کچھ حصہ ڈال دے۔ میں نے کہا: کیا عِتْقُ النَّسَمَۃ اور فَکُّ الرَّقَبَۃ ایک ہی چیز نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عِتْقُ النَّسَمَۃ سے مراد یہ ہے کہ تم خود مکمل غلام کو آزاد کرو اور فَکُّ الرَّقَبَۃ یہ ہے کہ تم کسی غلام کی آزادی میں کچھ حصہ ڈال دو، زیادہ دودھ والے جانور کا عطیہ دینا، ظالم رشتہ دار پر مہربانی کرنا اور اس سے نیکی کرنا، پس اگر تم کو اس کی طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھانا کھلا دینا، پیاسے کو پانی پلا دینا، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا، اور اگر تم کو اس کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنی زبان کو روک لینا، ما سوائے امورِ خیر کے۔
لیکن صورتحال یہ ہے کہ لوگوں بڑے بڑے عمل تو کرسکتے ہیں، لیکن اپنی زبان کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔