الفتح الربانی
مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة— اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل
بَابُ فِي التَّرْغِيْبِ فِي أَعْمَالِ الْبِرِّ وَالطَّاعَةِ مُطْلَقًا باب: مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 8955
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَالْقَ أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نیکی کو حقیر نہ جان، پس اگر کچھ دینے کے لیے تیرے پاس کچھ نہ ہو تو اپنے بھائی کو ہنس مکھ اور کھلے ہوئے چہرے کے ساتھ مل لیا کر۔
وضاحت:
فوائد: … کسی کو مسکراتے چہرے کے ساتھ ملنا، ہر معاشرے میں اس کو معمولی نیکی سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے اس معاملے میں غفلت کرنے والے زیادہ افراد نظر آتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر ترک نہ کیا جائے، بلکہ جہاں تک ممکن ہو توشۂ آخرت تیار کیا جائے۔
سابق حدیث کا لب لباب یہ تھا کہ بڑے عمل کی وجہ سے دوسرے اعمالِ صالحہ سے غفلت نہ برتی جائے اور اس حدیث میں یہ ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی ترک نہ کیا جائے۔
سابق حدیث کا لب لباب یہ تھا کہ بڑے عمل کی وجہ سے دوسرے اعمالِ صالحہ سے غفلت نہ برتی جائے اور اس حدیث میں یہ ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی ترک نہ کیا جائے۔