الفتح الربانی
مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة— اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل
بَابُ فِي التَّرْغِيْبِ فِي أَعْمَالِ الْبِرِّ وَالطَّاعَةِ مُطْلَقًا باب: مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُعَاذُ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ دَعْهُمْ يَعْمَلُوا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ردیف تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ حق یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ جانتے ہو کہ جب بندے یہ حق ادا کر دیں تو ان کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ حق یہ ہے کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس چیز کی لوگوں کو خوشخبری نہ دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رہنے دو، تاکہ وہ عمل کرتے رہیں۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ انتہائی قابل غور ہے، یعنی زیادہ اجرو ثواب والے اعمال کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بندہ مزید عمل کرنا ترک کر دے، دیکھیں اس قسم کی احادیث کے اولین مخاطَب صحابۂ کرام تھے، لیکن انھوں نے ان کی وجہ سے کسی عمل کو ترک کرنا گوارا نہ کیا،نیز اگلی حدیث پر غور کریں۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا ہماری عملی زندگی سے تعلق یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔