حدیث نمبر: 8950
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً أُخْرَى فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ أُخْرَى حَتَّى تَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی برائیاں کرنے کے بعد نیکیاں کرتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جس نے گلے کو دبا دینے والی تنگ زرہ پہن رکھی ہو، پھر جب وہ نیکی کرتا ہے تو اس کا ایک کڑا کھل جاتا ہے، پھر جب وہ کوئی اور نیکی کرتا ہے تو دوسرا کڑا کھل جاتا ہے، یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ زرہ زمین پر گر جاتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … برائیاں آدمی کے سینے کو تنگ کر دیتی ہیں، لیکن برا آدمی نیکیوں والی راحت سے اس قدر محروم ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس تنگی کو محسوس تک نہیں کر سکتا، اس کے برعکس نیکیوں سے انشراحِ صدر ہوتا ہے اور دل و دماغ کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة / حدیث: 8950
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 17/ 783 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17440»