حدیث نمبر: 894
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَتْ: فَنَاوَلْتُهُ خِرْقَةً فَقَالَ هَٰكَذَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ لَا أُرِيدُهَا، قَالَ سُلَيْمَانُ (الْأَعْمَشُ أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ): فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: هُوَ كَذَلِكَ وَلَمْ يُنْكِرْهُ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: لَا بَأْسَ بِالْمِنْدِيلِ، إِنَّمَا هِيَ عَادَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک چیتھڑا پکڑایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یہ اشارہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نہیں چاہیے، سلیمان اعمش کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابراہیم کے لیے ذکر کی، انھوں نے کہا: بات اسی طرح ہی ہے، اور انھوں نے اس کا انکار نہیں کیا اور مزید کہا: کپڑا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطورِتولیہ کپڑا استعمال نہیں کیا، جبکہ ایسا کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
سیدنا عروہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ لَہُ خِرْقَۃٌ یَتَنَشَّفُ بِھَا بَعْدَ الْوُضُوْئِ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا، جس سے وضو کے بعد (اعضا) خشک کرتے تھے۔ (ترمذی:۱/۷۴، حاکم:۱/۱۵۴، بیھقی:۱/۱۸۵، صحیحہ: ۲۰۹۹) وضو یا غسل کے بعد اعضاء کو تولیے وغیرہ سے خشک کرنے یا نہ کرنے کا وضو اور غسل کے اجر کی کمی یا زیادتی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 894
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27393»