الفتح الربانی
مسائل الاعتدال— میانہ روی کے مسائل
بَابُ الْاقْتِصَادُ فِي الْمَعِيشَةِ باب: معیشت میں میانہ روی اختیار کرنا
حدیث نمبر: 8936
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آدمی کی سمجھداری کی علامت ہو گی کہ وہ معیشت میں نرمی یعنی اعتدال اختیار کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: {وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا۔} … اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ خرچ میں تنگی کرتے ہیں اور (ان کا خرچ) اس کے درمیان معتدل ہوتا ہے۔ (سورۂ فرقان: ۶۷)