الفتح الربانی
مسائل الاعتدال— میانہ روی کے مسائل
بَابُ الْاقْتِصَادُ فِي الْمَعِيشَةِ باب: معیشت میں میانہ روی اختیار کرنا
حدیث نمبر: 8934
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ الْقَوَارِيرِيَّ يَقُولُ كُنْتُ أَمُرُّ بِنَاصِحٍ فَيُحَدِّثُنِي فَإِذَا سَأَلْتُهُ الزِّيَادَةَ قَالَ لَيْسَ عِنْدِي غَيْرُ ذَا وَكَانَ ضَرِيرًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے: عبیداللہ قواریری کہتے ہیں: میں ناصح بن علاء کے پاس سے گزرتا تھا اور وہ مجھے احادیث بیان کرتے تھے، پھر جب میں ان سے مزید کا سوال کرتا تو وہ کہتے: میرے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے، وہ نابینا آدمی تھے۔