حدیث نمبر: 8933
عَنْ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ يَخْرُجُ عَلَيْنَا فَجَاءَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي النَّخَعِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ أَلَا أَذْهَبُ فَأَنْظُرُ فَإِنْ كَانَ فِي الدَّارِ لَعَلِّي أَنْ أُخْرِجَهُ إِلَيْكُمْ فَجَاءَنَا فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ إِنَّهُ لَيُذَكِّرُ لِي مَكَانَكُمْ فَمَا آتِيكُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ أُمِلَّكُمْ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ شقیق کہتے ہیں: ہم مسجد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کر رہے تھے، انھوں نے ہمارے پاس آنا تھا، اتنے میں یزید بن معاویہ نخعی آ گئے اور کہا: کیا میں خود ان کی طرف چلا جاؤں اور ان کو دیکھوں، اگر وہ گھر میں ہوئے تو ان کو تمہاری طرف لے آنا میری ذمہ داری ہو گی، پس سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر کہا: مجھے تمہارا مقام و مرتبہ یاد آ رہا تھا، لیکن بات یہ ہے کہ میں اس لیے تمہارے پاس نہیں آتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اکتا جاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اکتا جانے کو ناپسند کرتے ہوئے وعظ و نصیحت کرنے میں ہمارا خیال رکھتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر روز خطاب نہیں کرتے تھے، بلکہ وعظ و نصیحت کے معاملے میں سامعین کی دلچسپی اور اکتاہٹ کا خیال رکھتے تھے، موجودہ دور کے مُصلح حضرات اور واعظین اس قسم کی مصلحت اور دانائی کا لحاظ نہیں کرتے اور پھر عوام سے یہ شکوہ رکھتے ہیں کہ شرعی مسائل سننے میںدلچسپی نہیں رکھتے۔
اگرچہ احوال و اشخاص میں فرق ہوتا ہے، پھر بھی خطباء حضرات کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی مستعدی اور شوق کا خیال رکھیں۔
لیکن عوام الناس کو بھی چاہیے کہ وہ صحابۂ کرام کی طرح قرآن و حدیث کے بیانات سننے کا شوق پیدا کریں اور ایسے دروس کی تلاش اور حرص میں رہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8933
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 68، 6411، ومسلم: 2821، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3587»