الفتح الربانی
مسائل الاعتدال— میانہ روی کے مسائل
بَابُ الْاقْتَصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ باب: وعظ ونصیحت میںمیانہ روی اختیار کرنے کا بیان
عَنْ شَقِيقٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نَنْتَظِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ يَخْرُجُ عَلَيْنَا فَجَاءَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي النَّخَعِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ أَلَا أَذْهَبُ فَأَنْظُرُ فَإِنْ كَانَ فِي الدَّارِ لَعَلِّي أَنْ أُخْرِجَهُ إِلَيْكُمْ فَجَاءَنَا فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ إِنَّهُ لَيُذَكِّرُ لِي مَكَانَكُمْ فَمَا آتِيكُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ أُمِلَّكُمْ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ كَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا۔ شقیق کہتے ہیں: ہم مسجد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتظار کر رہے تھے، انھوں نے ہمارے پاس آنا تھا، اتنے میں یزید بن معاویہ نخعی آ گئے اور کہا: کیا میں خود ان کی طرف چلا جاؤں اور ان کو دیکھوں، اگر وہ گھر میں ہوئے تو ان کو تمہاری طرف لے آنا میری ذمہ داری ہو گی، پس سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر کہا: مجھے تمہارا مقام و مرتبہ یاد آ رہا تھا، لیکن بات یہ ہے کہ میں اس لیے تمہارے پاس نہیں آتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اکتا جاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اکتا جانے کو ناپسند کرتے ہوئے وعظ و نصیحت کرنے میں ہمارا خیال رکھتے تھے۔
اگرچہ احوال و اشخاص میں فرق ہوتا ہے، پھر بھی خطباء حضرات کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی مستعدی اور شوق کا خیال رکھیں۔
لیکن عوام الناس کو بھی چاہیے کہ وہ صحابۂ کرام کی طرح قرآن و حدیث کے بیانات سننے کا شوق پیدا کریں اور ایسے دروس کی تلاش اور حرص میں رہیں۔