الفتح الربانی
مسائل الاعتدال— میانہ روی کے مسائل
بَابُ الْاقْتَصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ باب: وعظ ونصیحت میںمیانہ روی اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 8932
عَنْ أَبِي وَائِلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَكِّرُ كُلَّ خَمِيسٍ أَوْ اثْنَيْنِ الْأَيَّامَ قَالَ فَقُلْنَا أَوْ فَقِيلَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا لَنُحِبُّ حَدِيثَكَ وَنَشْتَهِيهِ وَوَدِدْنَا أَنَّكَ تُذَكِّرُنَا كُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُمِلَّكُمْ وَإِنِّي لَأَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو وائل کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات یا سوموار کو وعظ و نصیحت کرتے تھے، ہم نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! ہم آپ کی گفتگو پسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں روزانہ وعظ و نصیحت کریں، جواب میں سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس سے روکنے والی چیزیہ ہے کہ میں تمہیں اکتا دینے کو ناپسند کرتا ہوں اور میں نصیحت سے تمہاری ایسے ہی نگہداشت کرتا ہوں، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری کرتے تھے۔