الفتح الربانی
مسائل الاعتدال— میانہ روی کے مسائل
بَابٌ فِي اسْتِحْبَابِ الْأَخْذِ بِالرَّحْصَةِ وَعَدْمِ التَّشْدِيدِ فِي الدِّينِ باب: دین میں رخصت کو قبول کرنے اور سختی نہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان رخصت: لغوي معني: سہولت اور آسانی
حدیث نمبر: 8930
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَنْ لَمْ يَقْبَلْ رُخْصَةَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الذُّنُوبِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَةَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی رخصت قبول نہ کی، اس پر عرفہ کے پہاڑوں کی مانند گناہ ہوں گے۔