الفتح الربانی
مسائل الاعتدال— میانہ روی کے مسائل
بَابٌ فِي اسْتِحْبَابِ الْأَخْذِ بِالرَّحْصَةِ وَعَدْمِ التَّشْدِيدِ فِي الدِّينِ باب: دین میں رخصت کو قبول کرنے اور سختی نہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان رخصت: لغوي معني: سہولت اور آسانی
حدیث نمبر: 8928
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَاسًا سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ عِبَادَتِهِ فِي السِّرِّ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ((مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَسْأَلُونَ عَمَّا أَصْنَعُ)) فَذَكَرَ الْحَدِيثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) کچھ لوگوں نے امہات المؤمنین سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سرّی عبادات کے بارے میں پوچھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ان (مخفی امورِ عبادت) کے بارے میں سوال کرنے لگ گئے جو میں کرتا ہوں، … ۔ الحدیث
وضاحت:
فوائد: … دراصل یہ حدیث اوپر والی حدیث کا حصہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخفی امورِ عبادت کے بارے میں سوال کرنا قابل تعریف بات ہے، لیکن اگر نظریہیہ ہو کہ سوال کرنے والا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر عمل کرے گا تو پھر معاملہ غلط ہو جائے گا۔