حدیث نمبر: 8922
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَيَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَوْلَاةً لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالُوا إِنَّهَا تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَكِنِّي أَنَا أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ فَمَنِ اقْتَدَى بِي فَهُوَ مِنِّي وَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً ثُمَّ فَتْرَةً فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى بِدْعَةٍ فَقَدْ ضَلَّ وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّةٍ فَقَدِ اهْتَدَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مجاہد کہتے ہیں: میں اور یحییٰ بن جعدہ ایک انصاری صحابی کے پاس گئے، انھوں نے کہا: ایک دفعہ یوں ہوا کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بنی عبدالمطلب کی ایک لونڈی کا اس طرح ذکر کیا کہ وہ رات کو قیام کرتی ہے اور دن کو روزہ رکھتی ہے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں اورچھوڑ بھی دیتا ہوں، پس جس نے میری پیروی کی، وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری سنت سے منہ پھیر لیا، وہ مجھ سے نہیں ہے، ہر عمل کی حرص، شدت اور افراط تو ہوتی ہے، لیکن پھر سکون اور تھماؤ بھی ہوتا ہے، پس جس کا تھماؤ بدعت کی طرف لے جائے گا، وہ گمراہ ہو جائے گا اور جس کا ٹھہراؤ سنت کی طرف لے جائے گا، وہ ہدایت پا جائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصہ کی وضاحت حدیث نمبر (۸۹۰۷) میں ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8922
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 1239، والطبراني في الكبير : 2186 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23870»