الفتح الربانی
مسائل الاعتدال— میانہ روی کے مسائل
بَابُ الْاقْتِصَادِ فِي الْأَعْمَالِ باب: اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيَّ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا فَإِذَا نَحْنُ بَيْنَ أَيْدِينَا بِرَجُلٍ يُصَلِّي يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَتُرَاهُ يُرَائِي)) فَقُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَتَرَكَ يَدِي مِنْ يَدِهِ ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يُصَوِّبُهُمَا وَيَرْفَعُهُمَا وَيَقُولُ ((عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبْهُ)) وَفِي لَفْظٍ فَأَرْسَلَ يَدِي ثُمَّ طَبَقَ بَيْنَ كَفَّيْهِ فَجَمَعَهُمَا وَجَعَلَ يَرْفَعُهُمَا بِحِيَالِ مَنْكَبَيْهِ يَضَعُهُمَا وَيَقُولُ ((عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ الدِّينَ يَغْلِبْهُ))۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ایک دن کسی ضرورت کے لیے نکلا، اچانک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے سامنے چل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ہم دونوں اکٹھے چلنے لگے، اچانک ہم نے اپنے سامنے ایسا آدمی دیکھا جو بہت زیادہ رکوع و سجود کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے بارے میں تیرایہ خیال ہے کہ وہ ریاکاری کر رہا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور اپنے دونوں ہاتھ جمع کر کے اوپر نیچے کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ میانہ روی والا طریقہ لازم پکڑو، اعتدال والے انداز کا اہتمام کرو، میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ جو دین میں تکلف کرنے کی کوشش کرتا ہے، دین اس پر غالب آ جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور اپنی دونوں ہتھیلیوں میں تطبیق دے کر ان کو اکٹھا کیا اور پھر ان کو کندھوں کے برابر تک اٹھانے اور پھر نیچے کرنے لگے اور فرمانے لگا: میانہ روی والے طریقے کو لازمی پکڑو، تین دفعہ فرمایا، کیونکہ جو آدمی زور آمائی کرے گا، دین اس پر غالب آ جائے گا۔
اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ چلنے کا طریقہیہ ہے کہ لوگوں کا تحقیق اور حکمت و بصیرت والے اہل علم سے رابطہ ہو، وہ اپنی اہلیت اور مصروفیت کو دیکھ کر ان سے شریعت کی روشنی حاصل کریں اور اپنے لیے اعمالِ صالحہ کا معتدل سا منہج اختیار کریں، نیز ان کو یہ علم بھی ہونا چاہیے کہ جب رغبت زیادہ ہو تو کون سا عمل کرنا چاہیے۔