الفتح الربانی
مسائل الاعتدال— میانہ روی کے مسائل
بَابُ الْاقْتِصَادِ فِي الْأَعْمَالِ باب: اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
حدیث نمبر: 8920
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ آخِذًا بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ ثُمَّ أَتَى حُجْرَةَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ فَنَفَضَ يَدَهُ مِنْ يَدِي قَالَ ((إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ إِنَّ خَيْرَ دِينِكُمْ أَيْسَرُهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ایک بیوی کے حجرے کی طرف تشریف لے گئے اور میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور فرمایا: بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو آسانی والا ہو، بیشک تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سہولت پر مشتمل ہو، بیشک تمہارا خیر والا دین وہ ہے، جس میں زیادہ آسانی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اگر دینِ اسلام کے تمام احکام پر نگاہ ڈالی جائے تو یہی نظر آئے گا کہ کسی معاملے میں کوئی مشقت نہیں ہے، یہ دین صرف آسانی والا نہیں ہے، بلکہ اس پر عمل کرنے سے جسم اور روح کو تسکین ملتی ہے، پہلے ادیان میں پائی جانے والی سختیاں اس دین میں نہیں ہیں۔
قارئین کرام! لیکنیہ آسانی وہ شخص تسلیم کرے گا، جو سلیم الفطرت ہو گا اور دین پر عمل کرنے کا متمنی ہو گا، آخر اسی دین میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز مضمر ہے، اس لیےیہ کوئی حلوے کا لقمہ تو نہیں ہو گا کہ ہر کھانے والا جس کو آسانی اور لذت کے ساتھ کھانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
ایک مثال کے ذریعے سمجھیں کہ اس دنیائے فانی میں جس آدمی نے آمدنی کا جو ذریعہ اختیار کر رکھا ہے، وہ اس کو آسان سمجھتا ہے، کاروبار کے لیے روزانہ دس بارہ بارہ گھنٹے مصروف رہنا، ساتھ ساتھ کھاتے بنانے، کسی کو سنانا، کسی کی سننا، پڑھانے والے لوگوں کا تین تین چار چار یا پانچ چھ چھ پیریڈ پڑھانا، زمینداروں کا سخت محنت کرنا، کارخانوں اور صنعتوں میںکام کرنے والے لوگ، رات کی ڈیوٹیاں، پورا دن رات گاڑیوں کے ساتھ مصروف رہنے والے ڈرائیور اور کنڈیکٹر …، غرضیکہ ہر کوئی بڑے شوق کے ساتھ اپنے کام میں مگن ہے، اسی طرح نماز پڑھنے والوں کے لیے نماز آسان ہے، حج کرنے والوں کے لیے حج آسان ہے، روزہ رکھنے والوں کے روزے آسان ہیں، صدقہ و زکوۃ کے خواہشمندوں کے لیےیہ عمل آسان ہے، جہاد کرنے والوں کے لیے جہاد آسان ہے، خو ش مزاج لوگوں کے لیے خوش رہنا آسان ہے … علی ہذا القیاس۔ جو آدمی کسی شرعی رکن کو مشکل سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے، دراصل اس کے مزاج میں نحوست اور فساد آ چکا ہے اور شیطان اس پر اس قدر غالب آ چکا ہے کہ دین اسلام کے ارکان کی ادائیگی اس کے لیے مشکل ہو گئی ہے۔
قارئین کرام! لیکنیہ آسانی وہ شخص تسلیم کرے گا، جو سلیم الفطرت ہو گا اور دین پر عمل کرنے کا متمنی ہو گا، آخر اسی دین میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز مضمر ہے، اس لیےیہ کوئی حلوے کا لقمہ تو نہیں ہو گا کہ ہر کھانے والا جس کو آسانی اور لذت کے ساتھ کھانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
ایک مثال کے ذریعے سمجھیں کہ اس دنیائے فانی میں جس آدمی نے آمدنی کا جو ذریعہ اختیار کر رکھا ہے، وہ اس کو آسان سمجھتا ہے، کاروبار کے لیے روزانہ دس بارہ بارہ گھنٹے مصروف رہنا، ساتھ ساتھ کھاتے بنانے، کسی کو سنانا، کسی کی سننا، پڑھانے والے لوگوں کا تین تین چار چار یا پانچ چھ چھ پیریڈ پڑھانا، زمینداروں کا سخت محنت کرنا، کارخانوں اور صنعتوں میںکام کرنے والے لوگ، رات کی ڈیوٹیاں، پورا دن رات گاڑیوں کے ساتھ مصروف رہنے والے ڈرائیور اور کنڈیکٹر …، غرضیکہ ہر کوئی بڑے شوق کے ساتھ اپنے کام میں مگن ہے، اسی طرح نماز پڑھنے والوں کے لیے نماز آسان ہے، حج کرنے والوں کے لیے حج آسان ہے، روزہ رکھنے والوں کے روزے آسان ہیں، صدقہ و زکوۃ کے خواہشمندوں کے لیےیہ عمل آسان ہے، جہاد کرنے والوں کے لیے جہاد آسان ہے، خو ش مزاج لوگوں کے لیے خوش رہنا آسان ہے … علی ہذا القیاس۔ جو آدمی کسی شرعی رکن کو مشکل سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے، دراصل اس کے مزاج میں نحوست اور فساد آ چکا ہے اور شیطان اس پر اس قدر غالب آ چکا ہے کہ دین اسلام کے ارکان کی ادائیگی اس کے لیے مشکل ہو گئی ہے۔