الفتح الربانی
مسائل الاعتدال— میانہ روی کے مسائل
بَابُ الْاقْتِصَادِ فِي الْأَعْمَالِ باب: اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
حدیث نمبر: 8915
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا)) قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ} [المعارج: 23]ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنے عمل کا اہتمام کرو، جس کی تم طاقت رکھتے ہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا، حتیٰ کہ تم نہیں اکتا جاؤ گے۔ سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ وہ نماز پسند تھی کہ جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوام کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ ابو سلمہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ لوگ جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ہمیشگی والا عمل، یہی وہ خصلت ہے، جس کی وجہ سے خالق ومخلوق کے مابین تعلق میں مضبوطی آتی ہے اور عبادت میں شیرینی اور لذت محسوس ہوتی ہے، اس وقت مسلمان کلی طور پر ایسے اعمال سے غافل ہیں، الا ما شاء اللہ، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات ہماری روٹین کی محتاج ہیں، اگر وقت ملا تو نماز کا اہتمام ہو گا، اگر رات کو سونے میں دیر ہو گئی تو فجر کی نماز کو داؤ پر لگا دیا جائے گا، یہ نہیں ہو سکتا کہ نمازِ فجر کی خاطر رات کو جلدی سو جائیں، مغرب کی ایک، دو یا تین رکعتیں رہ جائیں، ہم پہلے پرتکلف افطاری کرتے ہوئے خوب کھائیں گے، اگر بیوی بچوں پر خرچ کرنے کے بعد کچھ بچا تو غریب کو دیا جائے گا، اگر اپنے گھر کی الجھنوں سے نکلے تو تب ہمسائے کا حق ادا کیا جائے گا، اگر سکول کی تعلیم سے وقت بچا تو تب بچے کو قرآن مجید پڑھایا جائے گا، ہماری زندگی کا ہر شعبہ ان مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ کاش ہم اسلام کو اصل سرمایہ سمجھ لیتے،دین پر چلنا بھی آسان ہو جاتا اور دنیا بھی ہماری تابع ہو جاتی۔