الفتح الربانی
مسائل الاعتدال— میانہ روی کے مسائل
بَابُ الْاقْتِصَادِ فِي الْأَعْمَالِ باب: اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
حدیث نمبر: 8914
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ ((لِمَنْ هَذَا)) قَالُوا لِحَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ فَإِذَا عَجَزَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ ((لَتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ فَإِذَا عَجَزَتْ فَلْتَقْعُدْ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو ستونوں کے درمیان لٹکی ہوئی رسی دیکھی اور پوچھا: یہ کس کی ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کی ہے، جب وہ (نماز پڑھتے پڑھتے) عاجز آ جاتی ہے تو اس کے ساتھ لٹکتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق نماز پڑھے، پس جب وہ عاجز آ جائے تو (نماز ترک کر کے) بیٹھ جائے۔