حدیث نمبر: 8913
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ ((مَا هَذَا)) فَقَالُوا لِزَيْنَبَ فَإِذَا كَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَكَتْ بِهِ فَقَالَ ((حُلُّوهُ)) ثُمَّ قَالَ ((لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا كَسِلَ أَوْ فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ)) وَفِي لَفْظٍ ((لَتُصَلِّ مَا عَقَلَتْ فَإِذَا غُلِبَتْ فَلْتَنَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ وہاں دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اس کی کیا وجہ ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی ہے، جب وہ سست پڑتی ہے تو اس کے ساتھ لٹکتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کھول دو، چاہیےیہ کہ آدمی پھرتی اور مستعدی کی حالت میں نماز پڑھے، جب وہ سست پڑ جائے تو قیام ترک کر دے۔ ایک روایت میں ہے: اس کو چاہیے کہ جب تک اس کو سمجھ آ رہی ہو، نماز پڑھے اور جب وہ (نیند کی وجہ) مغلوب ہو جائے تو سو جائے۔

وضاحت:
فوائد: … انسان پر جسم کا بھی حق ہے، اس کو بھی سکون ملنا چاہیے، لیکن اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سرے سے رات کے قیام کا اہتمام نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8913
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1150، ومسلم: 784 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11986 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12009»