حدیث نمبر: 8912
عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا تُصَلِّي بِاللَّيْلِ صَلَاةً كَثِيرَةً فَإِذَا غَلَبَهَا النَّوْمُ ارْتَبَطَتْ بِحَبْلٍ فَتَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((فَلْتُصَلِّ مَا قَوِيَتْ عَلَى الصَّلَاةِ فَإِذَا نَعَسَتْ فَلْتَنَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سیدہ حولاء بنت تُویت رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ خاتون رات کو بہت زیادہ نماز پڑھتی ہے اور جب اس پر نیند غالب آنے لگتی ہے تو یہ اپنے آپ کو ایک رسی کے ساتھ باندھ کر لٹکتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ جب تک اس کو طاقت ہو، یہ نماز پڑھے، لیکن جب اونگھنے لگے تو سو جائے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الاعتدال / حدیث: 8912
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26840»