حدیث نمبر: 8904
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((تُجَوَّزَ لِأُمَّتِي وَفِي رِوَايَةٍ إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ فِي أَنْفُسِهَا أَوْ وَسْوَسَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان امور کو بخش دیا ہے کہ جن کا ان کو خیال آتا ہے یا وسوسہ پڑ جاتا ہے، لیکن اس وقت تک جب تک وہ ان پر عمل نہ کرے یا ان کے بارے میں کلام نہ کرے۔

وضاحت:
فوائد: … اَلْوَسْوَسَۃ: لغوی معنی: محسوس نہ ہونے والی حرکت یا پوشیدہ آواز، جیسے زیور وغیرہ کی ہلکی جھنکار۔ اصطلاحي تعریف: شیطان کا انسان کو ورغلانے، بہکانے اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر ابھارنے کا نام ہے، یعنی وسوسہ شیطان کی طرف سے انسان کے دل میں خدا کی طرف سے اسے دی گئی قدرت کے تحت پیدا کردہ شرّ اور معصیت کا خیال و ارادہ ہے، جو شیطان کی مسلسل جدو جہد کے باعث صرف ارادہ ہی نہیں رہتا، قصد ِ محکم اور عزیمت ِ جازمہ بن جاتا ہے، اس لیے تمام معصیتوں اور گناہوں کی جڑ یہی وسوسہ ہے،جس سے سورۂ ناس میںپناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
یہ وسوسہ اس وقت تک معاف ہے، جب تک یہ محض خیال کی شکل میں رہے۔
ان احادیث ِ مبارکہ کا تعلق حدیث نمبر (۸۹۰۰)میںبیان کیے گئے پہلے مرتبے سے ہے، ایسا خیال کفر اور دوسرے کبیرہ گناہوں سے متعلق بھی ہو سکتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / الإخلاص فى النية والعمل / حدیث: 8904
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2528، 6664، ومسلم: 127 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7464»