حدیث نمبر: 8899
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رَوَى عَنْ رَبِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَحِيمٌ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَةٌ إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ وَاحِدَةٌ أَوْ يَمْحُوهَا اللَّهُ وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا هَالِكٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تیرا ربّ نہایت رحم کرنے والا ہے، جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کر پاتا تو اس کے لیے ایک نیکی تو لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتاہے تو وہ اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا بڑھا کر لکھی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی برائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا تو اس وجہ سے اس کی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جاتی ہے، یا اللہ تعالیٰ اس کو بھی معاف کر دیتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی ہلاک ہو گا، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اگر نیکی اور برائی کا یہ معیار ہو اور یقینا ہے بھی تو پھر وہی ہلاک ہو سکتا ہے، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / الإخلاص فى النية والعمل / حدیث: 8899
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 131 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2519»