الفتح الربانی
الإخلاص فى النية والعمل— نیت اور عمل میں اخلاص
بَابُ مَا جَاءَ فِي النِيَّةِ باب: نیت کے بارے میں باب
حدیث نمبر: 8891
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ رَجُلٍ تَكُونُ لَهُ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ (وَفِي رِوَايَةٍ صَلَاةٌ مِنَ اللَّيْلِ) يَقُومُهَا فَيَنَامُ عَنْهَا إِلَّا كُتِبَ لَهُ أَجْرُ صَلَاتِهِ وَكَانَ نَوْمُهُ عَلَيْهِ صَدَقَةً تُصُدِّقَ بِهَا عَلَيْهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی رات کو کچھ وقت کے لیے قیام کرتا ہو، جب وہ اس قیام سے سو جائے تو اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی نیند (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اس پر صدقہ ہوتی ہے، جو صدقہ اس پر کر دیا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو درداء سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ أَتٰی فِرَاشَہُ وَہُوَ یَنْوِی أَنْ یَقُومَ فَیُصَلِّیَ مِنْ اللَّیْلِ فَغَلَبَتْہُ عَیْنُہُ حَتّٰییُصْبِحَ کُتِبَ لَہُ مَا نَوٰی وَکَانَ نَوْمُہُ صَدَقَۃً عَلَیْہِ مِنْ رَبِّہِ۔)) … جو آدمی اپنے بستر پر آیا، جبکہ اس کی نیتیہ ہو کہ وہ رات کو اٹھ کر نماز پڑھے گا، لیکن اس کی آنکھ اس پر غالب آگئی،یعنی وہ سویا رہا، یہاں تک کہ صبح ہو گئی، تو اس نے قیام کے بارے میں جو نیت کی تھی، اس کا ثواب اس کے لیے لکھ دیا جائے گا، اور یہ نیند اس کے ربّ کی طرف سے اس پر صدقہ ہو گی۔ (ابن ماجہ: ۲۴۴)
یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، لیکنیہ اس شخص کے لیے ہے جس کی اتفاقاً آنکھ لگ گئییا کسی شرعی عذر کی وجہ سے اس کا قیام رہ گیا۔
یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، لیکنیہ اس شخص کے لیے ہے جس کی اتفاقاً آنکھ لگ گئییا کسی شرعی عذر کی وجہ سے اس کا قیام رہ گیا۔