الفتح الربانی
الإخلاص فى النية والعمل— نیت اور عمل میں اخلاص
بَابُ مَا جَاءَ فِي النِيَّةِ باب: نیت کے بارے میں باب
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ إِذْ ضَحِكَ فِي مَنَامِهِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِمَّ ضَحِكْتَ قَالَ إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ هَذَا الْبَيْتَ لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدِ اسْتَعَاذَ بِالْحَرَمِ فَلَمَّا بَلَغُوا الْبَيْدَاءَ خُسِفَ بِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ قُلْتُ وَكَيْفَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نِيَّاتِهِمْ وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى قَالَ جَمَعَهُمُ الطَّرِيقُ مِنْهُمُ الْمُسْتَبْصِرُ وَابْنُ السَّبِيلِ وَالْمَجْبُورُ يَهْلِكُونَ مَهْلَكًا وَاحِدًا وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے کہ اچانک نیند میں ہی مسکرانے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے پوچھا: ا ے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرائے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اس بیت اللہ (پر چڑھائی کرنے کا) قصد کریں گے، ان کا ہدف وہ قریشی شخص ہو گا، جو حرم میں پناہ لے چکا ہو گا، یہ لوگ جب بیداء مقام تک پہنچیں گے تو اِن سب کو دھنسا دیا جائے گا، لیکن (قیامت والے دن) ان کے نکلنے کی جگہیں الگ الگ ہوں گی، اللہ تعالیٰ ان کا ان کے نیتوں کے مطابق حشر کرے گا۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ ا ِن کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا اور ان کی نکلنے کے مقامات الگ الگ ہوں گے، یہ کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایک راستے پر جمع ہو گئے ہوں گے، وگرنہ ان میں بعض بصیرت والے ہوں گے، بعض مسافر ہوں گے اور بعض مجبور ہوں گے، لیکن سب ایک ہلاکت گاہ میں ہلاک ہو جائیں گے اور مختلف مقامات سے نکلیں گے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ظالم، باغی اور گمراہ لوگوں کی مجلسوں سے دور رہنا چاہیے، تاکہ ان کے برے اثر سے محفوظ رہا جا سکے، البتہ دین کی تبلیغیا کسی اشد ضرورت کے وقت ان کے پاس جانا جائز ہے، لیکن مقصود پورا ہونے کے بعد واپس چلا جانا چاہیے۔