الفتح الربانی
الإخلاص فى النية والعمل— نیت اور عمل میں اخلاص
بَابُ مَا جَاءَ فِي النِيَّةِ باب: نیت کے بارے میں باب
عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ مَعْنَ بْنَ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي وَجَدِّي وَخَطَبَ عَلَيَّ فَأَنْكَحَنِي وَخَاصَمْتُهُ إِلَيْهِ فَكَانَ أَبِي يَزِيدُ خَرَجَ بِدَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ بِهَا فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ وَلَكَ يَا مَعْنُ مَا أَخَذْتَ۔ سیدنا معن بن یزید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ اور دادا کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، انھوں نے میرے لیے منگنی کا پیغام بھیجا اور میرا نکاح بھی کر دیا۔ میں ان کے پاس جھگڑا لے کر گیا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے باپ سیدنایزید رضی اللہ عنہ کچھ دیناروں کا صدقہ کرنے کے لیے نکلے اور مسجد میں ایک شخص کو دے کر آ گئے (تاکہ وہ ان کی طرف سے صدقہ کردے)، لیکن ہوا یہ ہے کہ میں نے اس سے وہ دینار لے لیے اور لے کر گھر آ گیا، پس انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تجھے دینے کا ارادہ تو نہیں کیا تھا، پس میں یہ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے یزید! تیرے لیے تیری نیت ہے اور اے معن! جو کچھ تو نے لے لیا ہے، وہ تیرے لیے ہے۔
مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق، معن نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حق میں فیصلہ دیا۔ (بلوغ الامانی، زیر مطالعہ حدیث)
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: اس جھگڑے سے مراد معن اور اس کے باپ یزید کے درمیان صدقہ کے حوالے سے ہونے والی بحث ہے۔ جس میں آپ نے معن کے ضرورت مند ہونے کی وجہ سے اس کے صدقہ پکڑنے کو درست قرار دیا۔ (فتح الباری ج۳، ص ۲۹۲) (عبداللہ رفیق)