الفتح الربانی
الإخلاص فى النية والعمل— نیت اور عمل میں اخلاص
بَابُ مَا جَاءَ فِي النِيَّةِ باب: نیت کے بارے میں باب
حدیث نمبر: 8885
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُبْعَثُ النَّاسُ وَرُبَمَا قَالَ شَرِيكٌ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى نِيَّاتِهِمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو (قیامت والے دن) ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کی وضاحت درج ذیل حدیث سے ہو گی: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس قوم کے سارے افراد اس عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
(صحیح بخاری: ۷۱۰۸، صحیح مسلم: ۲۸۷۹)
یعنی ایسے عذاب کا لازمی نتیجہیہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ سب سے ناراض ہوتا ہے، بلکہ ایسی بستی میں بعض لوگ نیک ہوتے ہیں، بعض زیادہ برے، بعض کم برے، بعض مجبور، بعض رضامند، اس لیے ہر ایک کو قیامت والے دن اس کی عملی صلاحیت اور نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
(صحیح بخاری: ۷۱۰۸، صحیح مسلم: ۲۸۷۹)
یعنی ایسے عذاب کا لازمی نتیجہیہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ سب سے ناراض ہوتا ہے، بلکہ ایسی بستی میں بعض لوگ نیک ہوتے ہیں، بعض زیادہ برے، بعض کم برے، بعض مجبور، بعض رضامند، اس لیے ہر ایک کو قیامت والے دن اس کی عملی صلاحیت اور نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔