حدیث نمبر: 8884
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: صرف اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی، سو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہو گی، وہ اس کو پا لے گا اور جس کی ہجرت کسی عورت کے لیے ہو گی، وہ اس سے شاد ی کر لے گا، (غرضیکہ) مہاجر کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہو گی، جس (کی نیت سے) وہ ہجرت کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ اتنہائی اہم اور جامع حدیث ہے اور ہر نیکی کے کرنے اور ہر برائی سے بچنے میں اس حدیث ِ مبارکہ کا دخل ہو گا، نیت کی دو قسمیں ہیں، ایک نیت اعمالِ صالحہ کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے، مثلا ظہر کی چار رکعتیں، عصر کی چار رکعتیں، اِن سے پہلے والی چار چار سنتیں، فرضی روزہ، نفلی روزہ وغیرہ، ہر عمل کو شروع کرتے وقت اس کو دوسرے اعمال سے ممتاز کیا جائے گا۔
نیت کی دوسری قسم عامل کے مقصد کا تعین کرتی ہے کہ وہ عمل اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جا رہا ہے یا اس کی غرض و غایت ریاکاری، نمودو نمائش یا کسی غیر اللہ کا ڈر خوف ہے۔
اس باب میں نیت کی دوسری قسم کو واضح کرنا مطلوب ہے، یہ دعوی کرنا ممکن ہے کہ سب سے مشکل عمل نیت اور ارادے کو اخلاص پر برقرار رکھنا ہے۔ جہاد، سخاوت اور حج جیسے بیش قیمت اعمال نیت کے فتور کی وجہ سے تباہ ہو جاتے ہیں۔
امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مَا عَالَجْتُ شَیْئًا اَشَدَّ عَلَیَّ مِنْ نِیَّتِیْ، لِاَنَّھَا تَتَقَلَّبُ عَلَیَّ۔ … میں نے کسی چیز کا علاج نہیں کیا، جو میرے لیے سب سے زیادہ مشکل ہو، ما سوائے نیت کے، یہ نیت تو مجھ پر الٹ پلٹ ہو جاتی ہے۔
امام عبد اللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: رُبَّ عَمَلٍ صَغِیْرٍ تُعَظِّمُہٗالنِّیَّۃُ وَرُبَّ عَمَلٍ کَبِیْرٍ تُصَغِّرُہُ النِّیَّۃُ۔ … کتنے ہی چھوٹے چھوٹے عمل ہیں کہ نیت ان کو بڑا بنا دیتی ہے اوربہت سارے بڑے بڑے عمل ہیں کہ نیت ان کو چھوٹا بنا دیتی ہے۔
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: تَعَلَّمُوْا النِّیَّۃَ فَاِنَّھَا اَبْلَغُ مِنَ الْعَمَلِ۔ … نیت کو بھی سیکھو، کیونکہیہ عمل سے زیادہ اہمیت والی ہے۔
کسی نے نافع بن حبیب سے کہا: کیا آپ فلاں جنازے میں حاضر نہیں ہوں گے؟ انھوں نے کہا: ذرا ٹھیرو، میں نیت کر لو، پھر انھوں نے کچھ دیر سوچا اور کہا: جی چلیے۔ (ان اقوال کے لیے ملاحظہ ہو: جامع العلوم والحکم: ۱/ ۱۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / الإخلاص فى النية والعمل / حدیث: 8884
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1، ومسلم: 1907 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 168»