حدیث نمبر: 8882
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ فَرَكِبَهَا فَأَخَذَ عُقْبَةُ يَقُودُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُقْبَةَ اقْرَأْ فَقَالَ وَمَا أَقْرَأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [سورة الفلق] فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ حَتَّى قَرَأَهَا فَعَرَفَ أَنِّي لَمْ أَفْرَحْ بِهَا جِدًّا فَقَالَ لَعَلَّكَ تَهَاوَنْتَ بِهَا فَمَا قُمْتَ تُصَلِّي بِشَيْءٍ مِثْلِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحفے میں ایک سفید خچر دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ اس کو چلا رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: پڑھو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ اس سورت کو پڑھا، یہاں تک کہ اس (سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ ) نے اس سورت کو پڑھ لیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ میں اس سورت سے زیادہ خوش نہیں ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے، تم اس کو معمولی سمجھ رہے ہو، تو نے نماز میں اس جیسی سورت نہیں پڑھی ہو گی (یعنی یہ بے مثال سورت ہے، جس کو نماز میں پڑھا جائے)۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8882
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح ۔ أخرجه النسائي: 8/ 252 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17342 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17475»