الفتح الربانی
تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس— تفسیر، سوۃ الاعلیٰ سے سورۃ الناس
بَابُ رَأي ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ الْمُعَودَتَيْنِ لَيْسَنَا مِنْ كِتَابِ اللهِ وَرَدُ ذَلِكَ باب: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے کا بیان کہ معوذ تین کتاب اللہ میں سے نہیں ہیں، نیز اس رائے کے غیر مقبول ہونے کا بیان
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَكْتُبُ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي مُصْحَفِهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لَهُ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1] فَقُلْتُهَا فَقَالَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1] فَقُلْتُهَا فَنَحْنُ نَقُولُ مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو معوذ تین کو اپنے مصحف میں نہیں لکھتے،انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ خبر دی کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں نے کہہ دیا، جبریل نے کہا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}، پس میں نے کہہ دیا، سو ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔