الفتح الربانی
أبواب الغسل من الجنابة وموجباته— غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب
بَابٌ فِي صِفَةِ غَسْلِ الرَّأْسِ وَنَقْضِ الشَّعْرِ عِنْدَ الْغُسْلِ باب: غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
حدیث نمبر: 888
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا مَاءٌ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ)) قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعْرِي، زَادَ فِي رِوَايَةٍ: كَمَا تَرَوْنَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے غسل جنابت کے دوران ایک بال کے بقدر جگہ کو اس طرح چھوڑ دیا کہ اس تک پانی نہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم کی آگ سے ایسے ایسے کرے گا۔ سیدنا علیؓ نے کہا:یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کی ہے، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کی مذکور تخریج و تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ سیدناعلی ؓکا قول ہے کہ جس نے غسل جنابت کے دوران ایک بال کے بقدر جگہ کو اس طرح چھوڑ دیا کہ اس تک پانی نہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم کی آگ سے ایسے ایسے کرے گا۔ لیکن اس کو مرفوع کا حکم دیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ بات رائے اور اجتہاد سے تو نہیں کہی جا سکتی، اس کے ساتھ درج ذیل دو مرفوع روایات بھی ہیں، اگرچہ ان میں ضعف ہے، جو کہ بیان کر دیا گیا ہے، لیکن اگر ان تمام کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کی کوئی اصل ہے۔
سیدنا ابو ایوب انصاری ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… فَاِنَّ تَحْتَ کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃً۔)) … پس بیشک ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔ (ابن ماجہ: ۵۹۸، یہ منقطع ہے، طلحہ بن نافع نے سیدنا ابو ایوب ؓسے نہیں سنا)
سیدنا ابو ایوب انصاری ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… فَاِنَّ تَحْتَ کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃً۔)) … پس بیشک ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔ (ابن ماجہ: ۵۹۸، یہ منقطع ہے، طلحہ بن نافع نے سیدنا ابو ایوب ؓسے نہیں سنا)