حدیث نمبر: 8879
عَنْ زِرٍّ قَالَ قُلْتُ لِأُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ أَخَاكَ يَحُكُّهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ فَلَمْ يُنْكِرْ قِيلَ لِسُفْيَانَ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ نَعَمْ وَلَيْسَا فِي مُصْحَفِ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَ يَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهِمَا الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَلَمْ يَسْمَعْهُ يَقْرَأُهُمَا فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ فَظَنَّ أَنَّهُمَا عُوذَتَانِ وَأَصَرَّ عَلَى ظَنِّهِ وَتَحَقَّقَ الْبَاقُونَ كَوْنَهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ فَأَوْدَعُوهُمَا إِيَّاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ زر بن حبیش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے بھائی تو ان دونوں سورتوں کو مصحف سے کھرچ دیتے تھے، انہوں نے اس چیز کا انکار نہیں کیا۔ جب سفیان سے کہا کہ بھائی سے مراد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، انھوں نے کہا: جی ہاں اور یہ دو سورتیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں نہیں تھیں، ان کا خیال یہ تھا کہ یہ دو دم ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ذریعے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو دم کیا کرتے تھے، دراصل ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں ان سورتوںکی تلاوت کرتے ہوئے نہیں سنا تھا، پھر وہ اسی رائے پر مصرّ رہے، لیکن باقی افراد کی تحقیق یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کا حصہ ہیں، اس لیے انھوں نے ان کو قرآن مجید میں رکھا۔

وضاحت:
فوائد: … عُوْذَۃ: دم، گھبراہٹ یا جنون یا کسی بیماری پر کیا جانے والے دم۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8879
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه الطبراني: 9151، والبزار: 1586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21508»