الفتح الربانی
تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس— تفسیر، سوۃ الاعلیٰ سے سورۃ الناس
بَابُ رَأي ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ الْمُعَودَتَيْنِ لَيْسَنَا مِنْ كِتَابِ اللهِ وَرَدُ ذَلِكَ باب: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے کا بیان کہ معوذ تین کتاب اللہ میں سے نہیں ہیں، نیز اس رائے کے غیر مقبول ہونے کا بیان
عَنْ زِرٍّ قَالَ قُلْتُ لِأُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ أَخَاكَ يَحُكُّهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ فَلَمْ يُنْكِرْ قِيلَ لِسُفْيَانَ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ نَعَمْ وَلَيْسَا فِي مُصْحَفِ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَ يَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهِمَا الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَلَمْ يَسْمَعْهُ يَقْرَأُهُمَا فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ فَظَنَّ أَنَّهُمَا عُوذَتَانِ وَأَصَرَّ عَلَى ظَنِّهِ وَتَحَقَّقَ الْبَاقُونَ كَوْنَهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ فَأَوْدَعُوهُمَا إِيَّاهُ۔ زر بن حبیش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے بھائی تو ان دونوں سورتوں کو مصحف سے کھرچ دیتے تھے، انہوں نے اس چیز کا انکار نہیں کیا۔ جب سفیان سے کہا کہ بھائی سے مراد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، انھوں نے کہا: جی ہاں اور یہ دو سورتیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں نہیں تھیں، ان کا خیال یہ تھا کہ یہ دو دم ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ذریعے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو دم کیا کرتے تھے، دراصل ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں ان سورتوںکی تلاوت کرتے ہوئے نہیں سنا تھا، پھر وہ اسی رائے پر مصرّ رہے، لیکن باقی افراد کی تحقیق یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کا حصہ ہیں، اس لیے انھوں نے ان کو قرآن مجید میں رکھا۔