الفتح الربانی
تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس— تفسیر، سوۃ الاعلیٰ سے سورۃ الناس
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهِمَا باب: سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَالنَّاسُ يَعْتَقِبُونَ وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ فَحَانَتْ نَزْلَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَزْلَتِي فَلَحِقَنِي مِنْ بَعْدِي فَضَرَبَ مَنْكِبَيَّ فَقَالَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1] فَقُلْتُ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ ثُمَّ قَالَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1] فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ قَالَ إِذَا أَنْتَ صَلَّيْتَ فَاقْرَأْ بِهِمَا۔ ابو العلا کہتے ہیں: ایک آدمی یعنی سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور سواریاں کم ہو نے کی وجہ سے لوگ باری باری سوار ہو رہے تھے، اُدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور میرے اترنے کی باری بھی آ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے میرے پیچھے سے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرےکندھے پر مارا اور فرمایا: پڑھ{قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}۔ میں نے پڑھا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سورت پڑھی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پڑھ{قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ مکمل سورت پڑھی اور میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز پڑھے تو ان کی تلاوت کیا کر۔