حدیث نمبر: 8873
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ إِذْ قَالَ لِي يَا عُقْبَةَ أَلَا تَرْكَبُ قَالَ فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبَ مَرْكَبَهُ ثُمَّ قَالَ يَا عُقَيْبُ أَلَا تَرْكَبُ قَالَ فَأَشْفَقْتُ أَنْ تَكُونَ مَعْصِيَةً قَالَ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْتُ هُنَيَّةً ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ قَالَ يَا عُقَيْبُ أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَقْرَأَنِي {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1] وَ{قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1] ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا ثُمَّ مَرَّ بِي قَالَ كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقَيْبُ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَكُلَّمَا قُمْتَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَابِسٍ وَقَالَ ابْنُ عَبْسٍ الْجُهَنِيُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری ایک پہاڑی سے گزرنے والے راستہ سے چلا رہا تھا، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عقبہ! تم سوار کیوں نہیں ہوتے؟ میں نے کچھ نہ کہا، دراصل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلالت ِ شان کے پیش نظر سوار نہیں ہونا چاہتاتھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر فرمایا: اے عقیب! تم سوار کیوں نہیں ہوتے۔ اب میں ڈر گیا کہ یہ نافرمانی ہی نہ ہو جائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اترے اور میں کچھ دیر کے لئے سوار ہو گیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوار ہو گئے اور فرمایا: اے عقیب! کیا میں تمہیں سب سے بہترین دو سورتیں نہ سکھاؤں، جو لوگ پڑھتے ہیں؟ میں نے کہا: جی بالکل، اے اللہ کے رسول!، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تعلیم دی، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور اس نماز میں ان ہی دو سورتوں کی تلاوت کی، پھر میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے عقیب! کیسا پایا (ان دو سورتوں کی فضیلت کو کہ میں نے ان کی تلاوت کر کے نماز پڑھا دی ہے)، جب بھی تو سوئے اور جاگے تو ان سورتوں کی تلاوت کر۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیار کی وجہ سے عقبہ کو عقیب کے لفظ کے ساتھ پکارا، یہ عقبہ کی تصغیر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8873
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ۔ أخرجه النسائي: 8/ 253، وأخرجه مختصرا ابوداود: 1463، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17429»