حدیث نمبر: 8872
عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَابَنَا عَطَشٌ وَظُلْمَةٌ فَانْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ لَنَا فَخَرَجَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ قُلْ فَسَكَتُّ قَالَ قُلْ قُلْتُ مَا أَقُولُ قَالَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِي وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثًا تَكْفِيكَ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن خبیب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی، جبکہ اندھیرا بھی تھا اور ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرے رہے تھے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ کر ہمیں نماز پڑھائیں،پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: کہو۔ میں خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: کہو۔ میں نے کہا: جی میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شام اور صبح کرو تو تین تین بار سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھا کرو، تمہیں ہر روز دو بار کفایت کریں گی۔

وضاحت:
فوائد: … تمام نسخوں کو دیکھا جائے تو اس حدیث کے آخر میں مَرَّتَیْن کا لفظ زائد معلوم ہوتا ہے، جب مزی نے مسند احمد کی سند سے روایت ذکر کی تو انھوں نے بھی اس لفظ کا ذکر نہیں کیا۔ ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: تَکْفِیکَ مِنْ کُلَّ شیئٍ۔ (تجھے ہر چیزسے کفایت کریں گے۔) یہ سورتیں کس چیز سے کفایت کریں گی؟ ہر قسم کے شرّ سے کفایت کریں گی، آدمی شرور سے محفوظ رہے گے، یہ بھی معنی ممکن ہے کہ آدمی اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنے کے لیے جتنے اوراد و وظائف کرتا ہے، یہ سورتیں ان سب سے کفایت کریں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8872
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 5082، والترمذي: 3575، والنسائي: 8/ 250 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23040م»