الفتح الربانی
تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس— تفسیر، سوۃ الاعلیٰ سے سورۃ الناس
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهِمَا باب: سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی فضیلت کا بیان
عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَابَنَا عَطَشٌ وَظُلْمَةٌ فَانْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ لَنَا فَخَرَجَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ قُلْ فَسَكَتُّ قَالَ قُلْ قُلْتُ مَا أَقُولُ قَالَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِي وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثًا تَكْفِيكَ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ۔ سیدنا عبداللہ بن خبیب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی، جبکہ اندھیرا بھی تھا اور ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرے رہے تھے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ کر ہمیں نماز پڑھائیں،پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: کہو۔ میں خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: کہو۔ میں نے کہا: جی میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شام اور صبح کرو تو تین تین بار سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھا کرو، تمہیں ہر روز دو بار کفایت کریں گی۔