الفتح الربانی
تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس— تفسیر، سوۃ الاعلیٰ سے سورۃ الناس
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْل «قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ» وَالْـمُـعَوَّذَتَيْنِ باب: سورۂ اخلاص کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 8869
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَرَأَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] حَتَّى يَخْتِمَهَا عَشْرَ مَرَّاتٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا فِي الْجَنَّةِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَنْ أَسْتَكْثِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْثَرُ وَأَطْيَبُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} یعنی سورۂ اخلاص آخر تک دس مرتبہ پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک محل تعمیر کرے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر تو میں بہت سے محلات حاصل کر سکتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بھی بہت کثرت والا اور بہت عمدہ عطا کرنے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں سورۂ اخلاص کی فضلیت و عظمت اور اللہ تعالی کی رحمت کی وسعت کا بیان ہے۔ اللہ تعالی نے جنت میں لے جانے والے تمام اسباب کی نشاندہی فرما دی ہے۔ دیکھئے! ہم کس قدر اللہ تعالی کی رحمت سے مستفید ہوتے ہیں۔