الفتح الربانی
تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس— تفسیر، سوۃ الاعلیٰ سے سورۃ الناس
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْل «قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ» وَالْـمُـعَوَّذَتَيْنِ باب: سورۂ اخلاص کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْشُدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالَ فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَرَأَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَلِكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ إِنِّي قَدْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ وَإِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمع ہو جاؤ، میں تم پر قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ تلاوت کرنے والا ہوں۔ جب جمع ہونے والے جمع ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ}کی تلاوت کی، پھر آپ اندر تشریف لے گئے، ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے: کوئی آسمان سے خبر آئی ہے، اس کی وجہ سے گھر چلے گئے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا: میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تم پر قرآن مجید کا تیسرا حصہ تلاوت کروں گا،اور یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے (جو میں نے تم پر پڑھ دی ہے)۔