حدیث نمبر: 886
عَنْ جَمِيعِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَتْهَا إِحْدَاهُمَا: كَيْفَ كُنْتُنَّ تَصْنَعْنَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُؤُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ان سے یہ سوال کیا: تم غسل کے وقت کیا کرتی تھیں؟ سیدہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو نماز والا وضو کر کے اپنے سر پر تین چلّو ڈالتے تھے، لیکن ہم مینڈھیوں کی وجہ سے پانچ چلّو ڈالتی تھیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 886
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف جُمَيع بن عمير۔ أخرجه ابوداود: 241، والنسائي: 11/ 389، وابن ماجه: 574 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26068»