الفتح الربانی
أبواب الغسل من الجنابة وموجباته— غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب
بَابٌ فِي صِفَةِ غَسْلِ الرَّأْسِ وَنَقْضِ الشَّعْرِ عِنْدَ الْغُسْلِ باب: غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
حدیث نمبر: 886
عَنْ جَمِيعِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَتْهَا إِحْدَاهُمَا: كَيْفَ كُنْتُنَّ تَصْنَعْنَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُؤُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ان سے یہ سوال کیا: تم غسل کے وقت کیا کرتی تھیں؟ سیدہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو نماز والا وضو کر کے اپنے سر پر تین چلّو ڈالتے تھے، لیکن ہم مینڈھیوں کی وجہ سے پانچ چلّو ڈالتی تھیں۔