الفتح الربانی
تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس— تفسیر، سوۃ الاعلیٰ سے سورۃ الناس
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْل «قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ» وَالْـمُـعَوَّذَتَيْنِ باب: سورۂ اخلاص کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 8857
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ بِـ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ [الإخلاص: 1] فَكَأَنَّمَا قَرَأَ بِثُلُثِ الْقُرْآنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ یا کسی انصاری صحابی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۂ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ }پڑھی، گویا اس نے ایک تہائی قرآن مجید پڑھا۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ اخلاص {قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ} ایک تہائی قرآنِ مجید کے برابر ہے۔ اس حدیث کی سب سے بہترین تفسیریہ ہے: قرآنِ مجید تین اساسی مقاصد پر مشتمل ہے: (۱) اوامر و نواہی: اللہ تعالی کے وہ عملی احکام جن میں واجبات، مستحبات، محرمات اور مکروہات کا ذکر ہے۔
(۲) اخبار و قصص: سابقہ انبیا و رسل اور ان کی امتوں کے حالات و واقعات اور نیک و بد اعمال کی بنیاد پر وصول ہونے والے ثواب و عقاب کی تفاصیل۔
(۳) علم التوحید: اللہ تعالی کی ذات اور اس کے اسما و صفات اور ان کے تقاضوں کی تفصیل۔
سورۂ اخلاص مجمل طور پر تیسری قسم علم التوحید پر مشتمل ہے، اس لیے اس کو قرآن کا تہائی حصہ قرار دیا گیا۔
(۲) اخبار و قصص: سابقہ انبیا و رسل اور ان کی امتوں کے حالات و واقعات اور نیک و بد اعمال کی بنیاد پر وصول ہونے والے ثواب و عقاب کی تفاصیل۔
(۳) علم التوحید: اللہ تعالی کی ذات اور اس کے اسما و صفات اور ان کے تقاضوں کی تفصیل۔
سورۂ اخلاص مجمل طور پر تیسری قسم علم التوحید پر مشتمل ہے، اس لیے اس کو قرآن کا تہائی حصہ قرار دیا گیا۔