الفتح الربانی
تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس— تفسیر، سوۃ الاعلیٰ سے سورۃ الناس
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا وَتَسْبِيحَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْدِ نُزُوْلِهَا باب: سورۂ نصر کی تفسیر اور اس کے نزول کے بعد نبی کریم کا تسبیح پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 8853
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [النصر: 1] كَانَ يُكْثِرُ إِذَا قَرَأَهَا وَرَكَعَ أَنْ يَقُولَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ثَلَاثًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ نصر نازل ہوئی تو زیادہ تر یہ ہوتا کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سورت کی تلاوت کرتے تو رکوع میں تین بار یہ دعا پڑھتے: سُبْحَانَکَ اللّہُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! تو پاک ہے، اے ہمارے ربّ! اور تیری تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔