الفتح الربانی
تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس— تفسیر، سوۃ الاعلیٰ سے سورۃ الناس
بَابُ تَفْسِيرٍ مَا وَمَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا باب: سورۂ کافرون سورۂ کافروں کی تفسیر اور اس کی فضیلت کابیان
عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَفَعَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَقَالَ إِنَّمَا أَنْتَ ظِئْرِي قَالَ فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ مَا فَعَلَتِ الْجَارِيَةُ أَوِ الْجُوَيْرِيَةُ قَالَ قُلْتُ عِنْدَ أُمِّهَا قَالَ فَمَجِيئِي مَا جِئْتَ قَالَ قُلْتُ تُعَلِّمُنِي مَا أَقُولُ عِنْدَ مَنَامِي فَقَالَ اقْرَأْ عِنْدَ مَنَامِكَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ [سورة الكافرون] قَالَ ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ۔ سیدنا نوفل اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی مجھے دی اور فرمایا: تو میری بیٹی کو دودھ پلانے والی عورت کا خاوند ہے۔ جتنا عرصہ اللہ تعالیٰ کومنظور تھا، وہ رہے، پھر جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: بچی کا کیا بنا؟ میں نے کہا: جی وہ اپنی امی کے پاس ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا: آپ مجھے یہ تعلیم دیں کہ میں سوتے وقت کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوتے وقت سورۂ کافرون پڑھا کرو، جب یہ ختم ہو تو سو جایا کرو، یہ شرک سے بیزاری اور براء ت کا اعلان ہے۔