الفتح الربانی
تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس— تفسیر، سوۃ الاعلیٰ سے سورۃ الناس
بَابُ تَفْسِيرِ هَا وَصِفَةِ الْكَوْثَرِ باب: سورۂ کوثر سورۂ کوثر اور کوثر کی صفت کا بیان
حدیث نمبر: 8846
(وَعَنْهُ أَيْضًا) فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ [سورة الكوثر: ١] أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ هُوَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ حَافَتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {إِنَّا أَ عْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ}کے بارے میں کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جنت میں ایک نہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: میں نے جنت میں ایک نہردیکھی، اس کے کنارے موتیوں کے خیمے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: یہی وہ کوثر ہے، جواللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم کو خود واضح کر رہی ہیں، مزید دیکھیںحدیث نمبر (۱۳۱۲۳)