حدیث نمبر: 8845
عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ أَغْفَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً فَرَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا إِمَّا قَالَ لَهُمْ وَإِمَّا قَالُوا لَهُ لِمَ ضَحِكْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ [سورة الكوثر] حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هُوَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ يَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ آنِيَتُهُ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ يُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي فَيُقَالُ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اونگھ سی آئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا، لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیوں مسکرائے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابھی مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ إِنَّا أَ عْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ}کی تلاوت کی،یہاں تک کہ مکمل سورت پڑھی اور پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثرکیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک نہر ہے، جو میرے رب نے مجھے جنت میں عطا کی ہے، اس میں بہت زیادہ بھلائی ہے، میری امت قیامت والے دن اس پر میرے پاس آئے گی، اس نہر کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے، لیکن کچھ بندے مجھ سے روک لئے جائیں گے، میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ میری امت میں سے ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے تمہارے بعد (دین میں) کیا کیا اضافے کر دیئے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے آخر میں بدعت اور اہل بدعت کو متنبہ کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس / حدیث: 8845
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 400 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12019»